Urdu ghazal love poetry in text

Embark on a journey through the captivating world of Urdu ghazal love poetry in this insightful blog post. Explore the intricacies of ghazal, a classical poetic form known for its eloquent expressions of love, longing, and mysticism. The structure, defined by rhyming couplets, sets the stage for profound themes that delve into the complexities of human relationships. Dive into the rich tapestry of mystical imagery, where elements of nature and symbolism intertwine to enhance the beauty of each verse. Legendary poets such as Mirza Ghalib, Allama Iqbal, and Faiz Ahmed Faiz have left an indelible mark on this timeless art form. The evolution of ghazal is evident as contemporary poets infuse modern themes, ensuring its continued relevance. As you immerse yourself in the enchanting verses, feel the universal resonance that transcends generations, creating an emotional bridge to the human heart. This exploration reveals the enduring power of language to capture the profound essence of love in its various facets.

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں 

دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے 

کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے 

آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے 

نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے 

اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں 

اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے 

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں 

دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے 

وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں 

یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں 

اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے 

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں 

ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے 

جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا 

اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے 

لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ 

ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے

Urdu poetry
Urdu poetry

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی 

پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی 

یہ زندگی ہے یہاں اس طرح ہی ہوتا ہے 

سبھی نے بوجھ سے لادے ہیں کچھ اتارے بھی 

سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے 

ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی 

کسی کا اپنا محبت میں کچھ نہیں ہوتا 

کہ مشترک ہیں یہاں سود بھی خسارے بھی 

بگاڑ پر ہے جو تنقید سب بجا لیکن 

تمہارے حصے کے جو کام تھے سنوارے بھی 

بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے 

جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی 

پہ جیسے ریل میں دو اجنبی مسافر ہوں 

سفر میں ساتھ رہے یوں تو ہم تمہارے بھی 

یہی سہی تری مرضی سمجھ نہ پائے ہم 

خدا گواہ کہ مبہم تھے کچھ اشارے بھی 

یہی تو ایک حوالہ ہے میرے ہونے کا 

یہی گراتی ہے مجھ کو یہی اتارے بھی 

اسی زمین میں اک دن مجھے بھی سونا ہے 

اسی زمیں کی امانت ہیں میرے پیارے بھی 

وہ اب جو دیکھ کے پہچانتے نہیں امجدؔ 

ہے کل کی بات یہ لگتے تھے کچھ ہمارے بھی 

Urdu ghazald

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا 

جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا 

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا 

میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا 

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی 

پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا 

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے 

تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا 

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے 

تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا 

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے 

قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا 

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک 

تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا 

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی 

باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا 

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی 

اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا 

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا 

آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرا جوڑوں گا 

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے

یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے 

زندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلوم 

موت تو طے ہے کہ کس وقت کہاں آنی ہے 

کوئی کرتا ہی نہیں ذکر وفاداری کا 

ان دنوں عشق میں آسانی ہی آسانی ہے 

کب یہ سوچا تھا کبھی دوست کہ یوں بھی ہوگا 

تیری صورت تری آواز سے پہچانی ہے 

چین لینے ہی نہیں دیتی کسی پل مجھ کو 

روز اول سے مرے ساتھ جو حیرانی ہے 

یہ بھی ممکن ہے کہ آبادی ہو اس سے آگے 

یہ جو تا حد نظر پھیلتی ویرانی ہے 

کیوں ستارے ہیں کہیں اور کہیں آنسو ہیں 

آنکھ والوں نے یہی رمز نہیں جانی ہے 

تخت سے تختہ بہت دور نہیں ہوتا ہے 

بس یہی بات ہمیں آپ کو بتلانی ہے 

دوست کی بزم ہی وہ بزم ہے امجدؔ کہ جہاں 

عقل کو ساتھ میں رکھنا بڑی نادانی ہے 

جیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں 

ظلم ہوتا ہے کہیں اور کہیں دیکھتے ہیں 

تیر آیا تھا جدھر یہ مرے شہر کے لوگ 

کتنے سادا ہیں کہ مرہم بھی وہیں دیکھتے ہیں 

کیا ہوا وقت کا دعویٰ کہ ہر اک اگلے برس 

ہم اسے اور حسیں اور حسیں دیکھتے ہیں 

اس گلی میں ہمیں یوں ہی تو نہیں دل کی تلاش 

جس جگہ کھوئے کوئی چیز وہیں دیکھتے ہیں 

شاید اس بار ملے کوئی بشارت امجدؔ 

آئیے پھر سے مقدر کی جبیں دیکھتے ہیں

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here