Sad  poetry about love and life for dp and status in urdu text

گھٹن تڑپن اداسی اشک رسوائی اکیلا پن

بغیر ان کے ادھوری عشق کی ہر اک کہانی ہے    

مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکن

اداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا

سونے سونے سے دریچوں سے اداسی جھانکے

کیا عجب خوف ہے چہرے بھی کسی در میں نہیں

اس نئے سال کے سواگت کے لیے پہلے سے

ہم نے پوشاک اداسی کی سلا کے رکھ لی

Table of Contents

مرے دل کے اکیلے گھر میں راحتؔ

اداسی جانے کب سے رہ رہی ہے

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

یہ دل نواز اداسی بھری بھری پلکیں

ارے ان آنکھوں میں کیا ہے سنو دکھاؤ مجھے

اداسی کا سمندر دیکھ لینا

مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے

اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے

پھولوں کی تازگی میں اداسی ہے شام کی

سائے غموں کے اتنے تو گہرے کبھی نہ تھے

کیسی ہوتی ہیں اداسی کی جڑیں

آ دکھاؤں تجھے دل کے ریشے

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں

خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے

ہلکی سی خلش دل میں نگاہوں میں اداسی

شاید یوں ہی ہوتی ہے محبت کی شروعات

وہی بے وجہ اداسی وہی بے نام خلش

راہ و رسم دل ناکام سے جی ڈرتا ہے

اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی

مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا

ہم اداسی کے پرستار سہی

ہنستے چہروں کو دعا دیتے ہیں

آنکھ نم رخ پر اداسی درد بھی دل کے قریب

کیا محبت آ گئی ہے اپنی منزل کے قریب

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here