Home Blog

Story of Prophet muhammad s.a.w

0

Story of Prophet muhammad s.a.w

السلام علیکم!

وعلیکم السلام!

کیا آپ مجھے ایک اور نبی بابا کی کہانی سنائیں گے؟

مجھے خوشی ہے کہ آپ میرے بیٹے انبیاء کی کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں!

ہاں بابا میں کرتا ہوں!

آج آپ مجھے کون سی کہانی سنانے جا رہے ہیں؟

انشاء اللہ میں آپ کو زمین پر بھیجے گئے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کہانی سنانا شروع کروں گا۔

ماشاء اللہ بہت اچھا ہے! اب غور سے سنو! بسم اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ

محمد صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول کو مکہ مکرمہ، عرب میں پیدا ہوئے۔

ان کی والدہ آمنہ زہرہ خاندان کے وہب ابن عبد مناف کی بیٹی تھیں۔

ان کے والد عبداللہ، عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد کا پتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کے عظیم گھر سے ملتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا گئے اور آپ کی والدہ نے چھ سال کی عمر تک آپ کی دیکھ بھال کی۔ جب وہ چھ سال کے ہوئے تو ان کی ماں بھی چل بسی۔ ان کے دادا عبدالمطلب نے ان کی کفالت کی۔

لیکن اگلے دو سالوں میں آپ کے دادا کا انتقال ہو گیا اور اپنی موت سے پہلے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان کے چچا ابو طالب کے سپرد کر دیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرمانبردار لڑکے کے طور پر پلے بڑھے۔ جب آپ کی عمر بارہ سال تھی تو آپ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ بصرہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ انہوں نے کئی مہینوں تک صحرا میں سفر کیا۔

جب انہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا راہب سے تعارف کرایا تو بحیرہ بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے ابو طالب سے کہا: اس لڑکے کے ساتھ واپس آؤ اور اسے یہودیوں کی نفرت سے بچاؤ۔ ایک بہترین مستقبل آپ کے بھتیجے کا منتظر ہے! ابو طالب کو سمجھ نہیں آیا کہ راہب کا کیا مطلب ہے؛ ان کا بھتیجا صرف ایک عام بچہ تھا! اس نے بحیرہ کا شکریہ ادا کیا اور مکہ واپس آگئے۔

اس سفر کے بعد ایک طویل عرصے تک نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی میں کچھ خاص نہیں ہوا۔ لیکن تمام حکام اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کے پاس بڑی حکمت، آداب اور اخلاق تھے، جو اہل مکہ میں نایاب تھے۔ آپ کو ان کے اچھے کردار اور حکمت کی وجہ سے سب نے پسند کیا کہ انہیں “الامین” کا خطاب ملا، جس کا مطلب ہے وفادار

ہر دوسرے بچے کی طرح، انھیں اپنے خاندان کے کام کرنے پڑتے تھے۔ ان کے چچا نے اپنی زیادہ تر دولت کھو دی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ریوڑ کی دیکھ بھال کر کے ان کی مدد کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ تر تنہا زندگی گزاری۔ اہل مکہ کے درمیان اچانک خونی جھگڑے شروع ہوتے دیکھ کر آپ کو دکھ ہوا۔ لوگوں نے قانون کی پرواہ نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دوسرے لوگوں کے مصائب کو دیکھ کر غمگین ہوا اور اس زمانے میں مکہ مکرمہ میں اس طرح کے مناظر روزمرہ کے ہوتے تھے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس سال تھی تو آپ نے ایک بار پھر شام کا سفر کیا۔ اور یہیں وہ اپنی زندگی کی ساتھی سے ملے – حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ آس پاس کی سب سے خوبصورت اور شریف عورتوں میں سے ایک تھیں اور وہ ایک بہت ہی امیر گھرانے سے تھیں۔ لیکن وہ بیوہ تھیں۔

بیوہ ہونے کے باوجود معاشرے کے بہت سے امیر اور نامور مردوں نے اس سے شادی میں ہاتھ مانگا۔ لیکن انہوں نے ان سب کو مسترد کر دیا، کیونکہ وہ دوبارہ شادی کرنے کی خواہش کھو چکی تھیں۔ یہ صرف اس وقت تک تھا جب تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زندگی میں داخل ہوئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو کسی ایسے ایماندار کی تلاش تھی جو ان کے لیے کاروبار کر سکے۔ اس کے بعد ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعارف ہوا کہ وہ ایک شریف خاندان سے تھے۔ اور معصوم اخلاقی کردار کا حامل تھے اور انھیں اپنے اردگرد کے سب سے ایماندار آدمی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد ہی ان کے لیے کام کرنا شروع کر دیا اور اپنے پہلے تجارتی سفر کے لیے روانہ ہوئے، اس کے بعد ایک نوکر آیا

ان کے واپس آنے کے بعد اس نے اپنی خادم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے بارے میں پوچھا۔ نوکر نے اسے اپنی معلومات سے حیران کر دیا! انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان سب سے زیادہ مہربان ہے جسے میں نے کبھی دیکھا ہے۔ “یہ کبھی میرے ساتھ سختی سے پیش نہیں آیا، جیسا کہ بہت سے دوسرے کرتے ہیں!” “اور جب ہم چلچلاتی دھوپ کے نیچے صحرا میں سفر کر رہے تھے، تو ہمیشہ ایک بادل ہمارا پیچھا کرتا تھا، ہمیں سایہ فراہم کرتا تھا!” حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسند آ گئے ۔ اگرچہ وہ 15 سال چھوٹے تھے ، انہوں نے آپ سے شادی کرنے کا ارادہ کیا۔

اگلے دن انہوں نے نکاح کا پیغام آپ کے پاس بھیجا۔

کچھ ہی عرصہ بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی۔ یہ تمام انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ پیار کرنے والی، خوشیوں بھری اور مقدس شادیوں میں سے ایک کا آغاز تھا!

اس شادی نے انھیں ایک عورت کا پیار بھرا دل دیا، جس نے اسے تسلی دی، اس کے بعد کئی سال تک نبیﷺ نے مالدار زندگی گزاری۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم 35 سال کی عمر کو پہنچے تو آپ نے اپنے فیصلے سے ایک سنگین تنازعہ طے کر لیا، جس سے عرب کو جنگ کے ایک نئے سلسلے میں دھکیلنے کا خطرہ تھا۔ یہ خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا وقت تھا۔ ہر وہ قبیلہ جو وہاں جمع ہوا تھا، حجر اسود کو بلند کرنے کا اعزاز چاہتا تھا، جو کہ مقدس ترین آثار ہے۔ ہر قبیلے کے سردار اور آدمی عزت کا دعویٰ کرنے کے لیے آپس میں لڑتے تھے۔ تب ایک بزرگ نے مداخلت کی اور اس نے لوگوں سے کہا، “آپ اس دروازے سے داخل ہونے والے پہلے آدمی کی بات سنیں گے۔” لوگ راضی ہوگئے، اور صبر سے دروازے کی طرف دیکھتے رہے۔ دروازے سے داخل ہونے والا پہلا آدمی کوئی اور نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، الامین!!

مختلف قبیلوں نے آپ سے مشورہ طلب کیا اور فارغ ہونے کے بعد نبیﷺ نے حکم دیا کہ پتھر کو کپڑے پر رکھ دو۔ ہر قبیلے کو کپڑے کا ایک حصہ پکڑ کر پتھر اٹھانے کا اعزاز حاصل ہوگا! لوگوں نے بخوشی اس خیال سے اتفاق کیا۔ اس طرح پتھر رکھ دیا گیا، اور تعمیر نو کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو گیا! اسی دوران میں عثمان ابن حویرث مکہ پہنچے۔ اس نے بازنطینی سونے کا استعمال کرکے مکہ کے لوگوں کو لالچ دینے کی کوشش کی، اور اس علاقے کو رومی حکومت پر منحصر کرنے کی کوشش کی۔

لیکن ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت کی اور مکہ والوں کو خبردار کیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کی۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان کے چچا ابو طالب پر برے وقت آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتی دولت سے ان کے تمام قرضے معاف کر دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے بیٹے “علی” کی تعلیم بھی حاصل کی اور ان کی پرورش کی۔

ماشاء اللہ، یہ ایک حیرت انگیز کہانی تھی!

مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اسے پسند کیا عامر۔ حضور کو خدا بابا کی کال کب آئی؟

یہ میرے بیٹے کی کل کی کہانی ہے۔

میں بہت پر جوش ہوں!

ٹھیک ہے، کیا آپ سوالات کے لیے تیار ہیں؟

میں ہوں!

مجھے بتائیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کون تھے؟

ان کے والد عبد المطلب کے بیٹے عبداللہ تھے۔

بہت خوب عامر۔

اور ان کی ماں کا نام کیا تھا؟

ان کی والدہ کا نام آمنہ تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ کی وفات کب ہوئی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی ولادت سے پہلے ہی فوت ہو گئے اور آپ کی والدہ کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھ سال کی تھی!

ما شاء اللہ! یہ بہت اچھا تھا!

اب بتاؤ نبی کی کس نے دیکھ بھال کی؟

پہلے تو ان کے دادا نے ان کی دیکھ بھال کی اور بعد میں ان کے چچا ابو طالب نے ان کی دیکھ بھال کی۔

اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ’’آمین‘‘ کیوں کہا؟

اس زمانے میں مکہ کے اکثر لوگوں کے برعکس، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منصف مزاج اور نہایت شریف تھے۔ اسی لیے لوگ انہیں الامین کہتے تھے۔

بہترین عامر، یہ بہت اچھا تھا!

انشاء اللہ باقی کہانی کل سناؤں گا!

شب بخیر میرے بیٹے۔

شب بخیر بابا!

Top Best Islamic Poetry | Islamic Poetry in Urdu 2 Lines

0

Top Best Islamic Poetry | Islamic Poetry in Urdu 2 Lines

 

Top Best Islamic Poetry | Islamic Poetry in Urdu 2 Lines

Pic of kaba shareef with urdu poetry

Are you looking for Best Islamic Poetry and Islamic Poetry in Urdu 2 Lines

Here we will provide you all type of poetry like Islamic Poetry in Urdu, Beautiful Ramzan Poetry and Ramzan Poetry in Urdu.

pic of madeena shareef with urdu poetry

 

رسول اللہ نے فرمایا

ہر چیز کی رکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ،روزہ ہے

 

Islamic poetry 2 lines

 

۝ اِنَّ اللہَ یَغٌفرُِ الذُّنُوٌبَ جَمِیٌعَا ۝

یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے

 

۝ اِنَّ رَبِّىِ يَفعَلُ مَا يَشَاَءُ ۝

بیشک میرا رب جو چاہے ، کر سکتا ہے

 

 

‏اِنَّمَآ اَشْكُـوْا بَثِّىْ وَحُزْنِـىٓ اِلَى اللّـٰهِ°

 

میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار اللہﷻ ہی کے سامنے کرتا ہوں

islamic poetry in urdu 2 lines

‏ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِىۡ السَّمَآءِ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوۡرُۙ

‏کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے

 

 

اَلْحَيَاةُ مَعَ اللّٰهِ اَجْمَلُ

الله کے ساتھ زندگی زیادہ خوبصورت ہے

 

وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‌

اور اللّٰہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللّٰہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

‏﷽

اِنَّمَآ اَمْرُهٝٓ اِذَآ اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ°

اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو جا، سو وہ ہو جاتی ہے

سورۃ یس (82)

وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکـــَ الْمُنْتَھیٰ

اور تمھاری آخری منزل اللہ ہے

لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلمین

وَلَلًاٰ خِرَۃُ خَیًرُ لَکٰ مِنّ الاُؤلیٰ

اور یقیناً آخرت تمھارے لئے دنیا سے بہتر ہے

 

وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‌

اور اللّٰہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللّٰہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

Islamic Poetry in Urdu 2 Lines

اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر

بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

 

فَاِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ

 

فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا

یقیناً ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

لَا تَحْــــزَنْ اِنَّ اللّٰـهَ مَعَنَـا

غم نہ کرو بیشک اللّٰــــــه ہمارے ساتھ ہے

islamic poetry in urdu 2 lines text

اَللّٰهُ نُـوۡرُالـسَّمٰواتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ

اللّٰهﷻ آسمانوں اور زمین کا نور ہے

ذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ»

جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

📔 صحیح مسلم 1079 (2496)

° قَالَ لاَ تَخَافَاَ اِنَّنِی مَعَکُمماَ اَسمَعُ وَاَرٰی °

ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں اور

دیکھ بھی رہا ہوں

How to download Poetry Images?

Thanks for visiting our site. If you are using mobile and want to download image of Islamic Poetry then click and hold on your favourite  image and then click on “Download Image”. If you are using Computer then right click on your favourite image and click on “save image as” the image will be download Thanks.

You can find us on Google.Also you can read Islamic Poetry in Urdu.Thanks for visiting our website for more poetry updates keep visiting theenlightenedones28.com

 

Hazrat Nooh A.S story in urdu

0
Hazrat nooh A.S
Hazrat nooh A.S

Hazrat Nooh A.S story in urdu

السلام علیکم

واعلیکم السلام! بابامیں آپ کا انتظار کر رہا تھا!

کیا کر رہے تھے میرے بیٹے؟میں ابھی اپنا ہوم ورک مکمل کر رہا تھا بابا

۔اور، ابھی تک اسے ختم کیا ہے؟تقریباً بابا، بس ایک لائن اور لکھنی ہے

۔ٹھیک ہے، اپنا ہوم ورک ختم کرو، اور انشاء اللہ آج رات میں تمہیں ایک اور نبی کی کہانی سناؤں گا۔ایک اور نبی کا قصہ!

بہت شکریہ بابا!بس مجھے ایک منٹ دیں، اور میں یہ لکھنا جلدی ختم کر دوں گا!

میں نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا بابا، کیا آپ اب کہانی سنا سکتے ہیں؟

ماشااللہ، یہ جلدی تھی! بہت پرجوش؟

ٹھیک ہے، آج رات میں آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ سنانے جا رہا ہوں!

وہ بابا کون تھے؟

میں تمہیں بتاتا ہوں بیٹا.. اب غور سے سنو! بسم اللہ!

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کے بھیجنے کے ایک ہزار سال بعد زمین پر بھیجا۔ زمین پر آبادی اب تک کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ اور اس وقت تک شیطان انسانوں کے ساتھ اپنی گندی چالیں چلا چکا تھا اور لوگ بتوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ایک اور نبی حضرت نوح علیہ السلام کو زمین پر بھیجا تاکہ لوگوں کی رہنمائی کی جا سکے۔

لیکن یہ نبی کے لیے آسان کام نہیں ہونے والا تھا۔ “اللہ سے ڈرو، اور جو اللہ کہتا ہے وہ کرو” نبی نے سب کو پکارا۔ لیکن لوگ سننا نہیں چاہتے تھے۔ وہ سر ہلا کر بتوں کی پوجا کرتے رہے۔ نبی hazrat بہترین مقرر تھے اور بہت صبر کرنے والے بھی تھے۔

’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ اللہ نے یہ ساری دنیا بنائی ہے؟‘‘  “یہ اللہ ہی ہے جس نے سورج، چاند اور ستارے بنائے جو تم آسمان میں دیکھتے ہو۔ اس نے دریاؤں، پہاڑوں، درختوں اور ہر وہ چیز بنائی جو تم اپنے اردگرد دیکھتے ہو۔ اس نے یہ سب آپ کے لیے کیا، اور آپ اکیلے۔ پھر تم اس کی عزت کیوں نہیں کرتے؟ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کر رہے ہو؟”

لیکن لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیا، ”ہاہا… تم ہمیں نصیحت کرنے والے کون ہو؟ تم صرف ایک اور آدمی ہو، اور ہم سمجھتے ہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ چلے جاؤ اور ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔”

لیکن زمین پر اچھے مسلمان بھی تھے! ان میں سے اکثر کمزور اور غریب تھے۔ انہوں نے نبی کی باتیں سنیں اور محسوس کیا کہ وہ بتوں کی پوجا کر کے گناہ کر رہے ہیں۔ اب زمین پر لوگوں کے دو مختلف گروہ تھے۔ ایک وہ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور دوسرے وہ جنہوں نے بت پرستی جاری رکھی۔ نوحاعلیہ السلام  کئی سالوں تک لوگوں کو تبلیغ کرتےرہے۔

بت پرست جلد ہی نبی سے اکتا گئے۔ “آپ کافی عرصے سے جھوٹ کی تبلیغ کر رہے ہیں” انہوں نے کہا۔ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔‘‘ لیکن نبی نے انہیں نظر انداز کیا اور لوگوں کو بلاتے رہے۔ وہ دن اور رات ان کو تبلیغ کرتےتھے۔ ہجوم کو تبلیغ کرتے ہوئے کئی مواقع پر انھیں بت پرستوں نے سنگسار کیا۔ یہاں تک کہ انھیں لاٹھیوں سے مارا گیا۔’

’تم ہم سے مختلف نہیں ہو‘‘ بت پرستوں نے چیخ کر کہا۔ “تم کوئی نبی نہیں ہو! تم تو دوسرے آدمی ہو اور ہم تمہاری بات کیوں سنیں؟‘‘

’’میں تم سے سچ کہہ رہا ہوں‘‘ نبی نے ان سے التجا کی۔ ’’تم بتوں کی پوجا کر کے گناہ کر رہے ہو۔‘‘

لیکن لوگوں نے ایک نہ سنی، اور اُنہوں نے اُسے دوبارہ مارا۔ “میں تم سے ڈرتا ہوں! اللہ ایک دن تمہیں عذاب دینے والا ہے۔‘‘ نبی نے انہیں پکارا۔ لیکن لوگوں کو کوئی شرم نہیں آئی، اور وہ کہنے لگے کہ وہ احمق ہے، اس کی بات مت سنو۔

اس سارے درد نے نبی  کو لوگوں کو پکارنا بند نہیں ہونے دیا۔ وہ ساڑھے نو سو سال تک ان کی تبلیغ کرتےرہے۔ کفار نبی کا مذاق اڑاتے رہے، اور اب تک باتوں کو بہت آگے لے جا چکے تھے۔ نوح علیہ السلام اب تک مایوس ہو چکے تھے جبکہ کفار کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی۔

ایک رات جب نبی  نماز پڑھ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا! “نوح غم نہ کرو” خدا نے نبی سے کہا۔ “آپ نے وہی کیا جو آپ سے کہا گیا تھا۔ میں زمین کے تمام لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا دوں گا۔ روئے زمین پر ہر کوئی مرنے والا ہے سوائے مسلمانوں اور جانوروں کے۔

پہلے قدم کے طور پر، خدا نے پھر نبی سے بہت سے درخت لگانے کو کہا! حضرت نوح علیہ السلام کو اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی لیکن انہوں نے اللہ کی بات مانی اور درخت لگانے لگے جیسا کہ ان کو کہے گئے تھے۔ انہوں  نے ان اچھے مسلمانوں سے بھی کہا جنہوں نے ان  کی بات سنی۔ انہوں نے یہ ایک سو سال سے زیادہ عرصے تک کیا!

کئی سالوں کے بعد اللہ نے نبی سے پھر بات کی! اس بار اس نے نبی سے کشتی  بنانا شروع کرنے کو کہا!! ’’یہ ایک بہت بڑی کشتی ہونی  چاہیے، جس میں زمین کے ہر جانور کا ایک جوڑا سما سکے۔‘‘ اللہ نے فرمایا۔ نبی پریشان ہو گئے۔ وہ کشتی  بنانا نہیں جانتے تھے۔  اور اس سے پہلے کسی نے کشتی نہیں بنائی  تھی۔  اس کے باوجود نبی نے  کشتی بنانا شروع کی۔ سب سے پہلے، انہوں نے کشتی  بنانے کا منصوبہ بنایا۔ کشتی کا صحیح سائز کوئی نہیں جانتا۔ کچھ کہتے ہیں کہ اس کی لمبائی 600 فٹ تھی، اور کچھ کہتے ہیں کہ اس کی لمبائی 2400 فٹ تھی! جو کچھ بھی تھا، کشتی  یقینی طور پر بہت بڑی ہو گی!

Hazrat nooh
Hazrat nooh

ہم کشتی  بنانے میں آپ کی مدد کریں گے۔‘‘ ان  کے بچوں اور مسلمانوں نے کہا اور وہ نبی کے ساتھ شامل ہو گئے۔ سب سے پہلے، نبی کو کشتی  بنانے کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا تھا۔ انہوں  نے شہر سے بہت دور پہاڑوں کا انتخاب کیا۔ نبی نے اوزار اکٹھے کیے اور کشتی  بنانے کے لیے نکلے۔ انہوں نے لکڑی کے لیے درختوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ ہاں، یہ وہی درخت تھے جو انہوں  نے سو سال پہلے لگائے تھے۔ پھر انہوں نے منصوبے کے مطابق کشتی  بنانا شروع کی۔ اس کشتی کو بنانے کے لیے آدمیوں نے دن رات بہت محنت کی۔

کفار نے جب نبی کو پہاڑ کی چوٹی پر کشتی بناتے ہوئے دیکھا تو اس کا مذاق اڑانے لگے! ’’تم اتنے پرانے احمق ہو۔‘‘ وہ بولے۔ “آپ کو اتنی بڑی کشتی کی ضرورت کیوں پڑے گی؟” دوسروں نے کہا “اور تم اسے سمندر تک کیسے لے جا رہے ہو؟” ’’تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا‘‘ نبی نے جواب دیا۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ نبی کشتی  کیوں بنا رہے تھے، اور وہ سمجھتے تھے کہ نبی اپنا دماغ کھو چکے ہیں! نبی اور اس کے آدمی محنت کرتے رہے۔ کئی مہینوں کے بعد بالآخر کشتی  تیار ہو گئی ! پھر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ انہوں نے کشتی  کو مکمل  کرنے میں مدد کی۔

سیلاب کا وقت دن بہ دن قریب آ رہا تھا۔ ایک رات اللہ نے نبی کو بتایا کہ وہ زمین میں سیلاب آنا شروع کر دے گا، جس دن نبی اپنے گھر کے چولہے سے پانی نکلتا دیکھیں گے۔  آپ نے دیکھا کہ نبی کی بنائی ہوئی اس بڑی کشتی کے تین الگ الگ حصے تھے! وہ مختلف قسم کے جانوروں کے امیر کے لیے تھے۔ پہلا پرندوں کے لیے تھا۔ ساخت کا دوسرا حصہ انسانوں کے لیے تھا اور تیسرا حصہ جانوروں کے لیے تھا۔ ماشاءاللہ…. یہ شاندار تھا۔ ہاں بیٹا۔ اور جب سیلاب کا دن قریب آیا تو جانور اور پرندے ایک ایک کر کے آنے لگے۔ وہ جوڑے میں آ رہے تھے- ایک نر اور ایک مادہ! وہاں ہاتھی، زرافے، شیر، خرگوش، طوطے تھے اور جلد ہی جہاز زمین کے تمام قسم کے جانوروں اور پرندوں سے بھر گیا!

اور ایک دن، جیسا کہ خدا نے نبی کو بتایا تھا، اچانک ان کے باورچی خانے میں چولہے سے پانی نکلنے لگا۔ یہ وہ نشان تھا جس کا نوح علیہ السلام انتظار کر رہے تھے! وہ جانتے تھےکہ سیلاب کا وقت آن پہنچا ہے! باہر نکلے تو دیکھا کہ بارش بھی شروع ہو چکی ہے! کوئی وقت ضائع کیے بغیر وہ باہر بھاگے اور تمام اچھے مسلمانوں کو بلایا جنہوں نے کشتی بنانے میں ان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے ان سب کو فوراً کشتی  پر سوار ہونے کو کہا

کافروں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے اس لیے وہ نبی  پر ہنستے رہے۔ “بوڑھے احمق کو دیکھو” انہوں نے کہا۔ “وہ ان تمام جانوروں اور مردوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہا ہے؟” پیغمبر نے ان کو نظر انداز کیا اور اپنی بیویوں اور بیٹوں سے کہا کہ وہ جلدی سے جہاز پر چڑھ جائیں۔ سب نے اس کی اطاعت کی، سوائے اس کی بیویوں اور اس کے بیٹے کے جو اس کے پیروکار نہیں تھے۔ “میں اپنے آپ کو پانی سے بچا لوں گا” اس کے بیٹے نے کہا۔ ’’میری فکر نہ کرو۔‘‘ پانی کی سطح اب بلند ہو چکی تھی، چنانچہ نبی جہاز پر سوار ہونے کے لیے بھاگے۔

ایک خوفناک سیلاب آیا، اور پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی۔ زمین کی پرت ہل گئی، اور سمندروں کی تہیں بڑھنے لگیں، جس کی وجہ سے خشکی میں سیلاب آ گیا! بارش بھی گھنٹوں تک نہیں رکی! اب تک لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ جو کچھ نبی نے انہیں بتایا وہ سچ ہے، اور وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگے۔ نبی نے دیکھا کہ اس کا بیٹا پانی سے بچنے کے لیے پہاڑ پر چڑھ رہا ہے  تو اس نے ان سے پکارا، “آؤ اور کشتی پر سوار ہو جاؤ، اپنے آپ کو بچاؤ!” لیکن اس  نے اسے نظر انداز کیا اور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا  پھر ایک بہت بڑی لہر، جس پہاڑ پر وہ کھڑا تھا، اس سے بھی بڑی، آئی اور ان سے ٹکرائی، جس سے وہ مارا گیا !! ان بڑی لہروں نے باقی تمام کافروں کو بھی ہلاک کر دیا! پانی مسلسل بڑھتا رہا اور کچھ دیر بعد زمین پانی سے بھر گئی۔

پھر نوح علیہ السلام نے بسم اللہ کہا! جب نبی نے  یہ الفاظ کہے تو کشتی  چلنے لگی بارشیں تو اب تھم چکی تھیں لیکن ساری زمین پانی سے بھر گئی تھی۔ نبی جانتے تھے کہ انھیں  طویل عرصے تک کشتی رانی کرنی ہے۔

لیکن بابا کیا جانوروں نے دوسروں کو تکلیف نہیں دی؟ وہ ایک ساتھ کیسے رہتے تھے؟

اس کشتی  میں اسّی آدمی سوار تھے، اور نبی نے احتیاط برت رکھی تھی کہ آدمیوں اور جانوروں کے لیے کافی خوراک ذخیرہ کر لیں۔ اللہ نے میرے بیٹے یہ سب پلان کیا تھا۔ اس نے کشتی  کو خاموش بھیڑوں کے ساتھ ساتھ متشدد شیر کے لیے بھی موزوں بنایا۔اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بہت سے مسائل حل کیے جن کا نبی کو سفر کے دوران سامنا کرنا پڑا۔

وہ اب تک تقریباً ایک سو پچاس دن تک بحری سفر کر چکے تھے، اور انہیں کہیں بھی زمین نہیں ملی جہاں وہ دیکھ سکتے تھے۔ نبی اور مرد بہت دنوں تک انتظار اور انتظار کرتے رہے۔  کشتی  کچھ دیر آگے چلی ور آخر کار جوڈی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئی ۔ نبی  نے بسم اللہ کہی اور کشتی چلنا بند ہو گئی ! ڈیڑھ سو دن سے زیادہ سفر کرنے کے بعد بالآخر ان کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ نبی نے سب سے پہلے تمام جانوروں، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کو زمین میں چھوڑا۔ وہ باہر گئے اور زمین کو دوبارہ آباد کیا۔ نبی  اور دوسرے مسلمان کشتی  سے باہر نکلے اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی پیشانی سجدے میں زمین پر رکھ دی۔ اور یہ نسل انسانی کے لیے ایک نئی شروعات تھی۔

John elia poetry in urdu 2 line text

1
Poetry in urdu

John elia poetry in urdu 2 line text

Explore the enchanting world of John Elia’s Urdu poetry in this post, delving into the life, influences, and distinctive style that define his work. Uncover the recurring themes and intellectual depth that make Elia’s verses resonate across generations. From his mastery of metaphors to the enduring impact on Urdu literature, this summary encapsulates the timeless elegance of John Elia’s poetry, inviting readers on a profound journey of introspection and understanding.

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے 

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے 

John elia poetry in urdu   

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس 

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں 

John elia poetry in urdu  

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا 

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا 

John elia poetry in urdu

 

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو 

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا 

  

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے 

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے 

John elia poetry in urdu  

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی 

تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا 

John elia poetry in urdu

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں 

وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے 

John elia poetry in urdu   

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا 

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں 

John elia poetry in urdu

 

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں 

کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے 

John elia poetry in urdu

کیا کہا عشق جاودانی ہے! 

آخری بار مل رہی ہو کیا 

John elia poetry in urdu

میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لےا

اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو

John elia  

ہر شخص سے بے نیاز ہو جا 

پھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں 

John elia  

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا 

جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے 

John elia     

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر 

تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا 

John elia  

حاصل کن ہے یہ جہان خراب 

یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں 

John elia  

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں 

ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا 

John elia   

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال 

جون برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں 

 

حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا 

سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو 

John elia

Best deep quotes one line about love and life in urdu text

0
Deep quotes in urdu
Deep quotes in urdu

Best deep quotes one line about love and life in urdu text

Delve into the poetic richness of Urdu with this collection of one-line deep quotes encapsulating the profound themes of love and life. From the intricate dance of emotions in love to the ever-changing canvas of life’s journey, each line weaves a tapestry of wisdom and beauty. These concise expressions capture the depth of heartache, the timeless resonance of love, and the unpredictable nature of life. Whether exploring the simplicity of true love or drawing lessons from life’s echoes, these one-liners invite reflection and appreciation for the eloquence of Urdu language in conveying the complexities of the human experience.

دنیا میں جتنی لعنتیں ہیں، بھوک ان کی ماں ہے۔ 

سعادت حسن منٹو

Deep quotes
Deep quotes

غصہ جتنا کم ہوگا اس کی جگہ اداسی لیتی جائے گی۔ 

مشتاق احمد یوسفی

Deep quotes
Deep quotes

ہر حسین چیز انسان کے دل میں اپنی وقعت پیدا کر دیتی ہے۔ خواہ انسان غیر تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔ 

سعادت حسن منٹو

Deep quotes

اچھے استاد کے اندر ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور سر ہلا ہلا کر بتاتا جاتا کہ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں۔ 

مشتاق احمد یوسفی

Deep quotes

شاعری کا اعلیٰ ترین فرض انسان کو بہتر بنانا ہے۔ 

پریم چند

Deep quotes

قوموں کو جنگیں تباہی نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب جنگ کے مقاصد بدل جاتے ہیں۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا ۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ ایک بہرے ،گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

جو چیز مسرت بخش نہیں ہو سکتی وہ حسین نہیں ہو سکتی۔ 

پریم چند

Deep quotes

کہتے ہیں سگریٹ کے دوسرے سرے پر جو راکھ ہوتی ہے در اصل وہ پینے والے کی ہوتی ہے۔ 

محمد یونس بٹ

Deep quotes

جو معاشرہ اپنے آپ کو جاننا نہیں چاہتا وہ ادیب کو کیسے جانے گا۔ جنہیں اپنے ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی انہیں ادیب کی آواز بھی سنائی نہیں دے سکتی۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

ادب کی بہترین تعریف تنقید حیات ہے۔ ادب کو ہماری زندگی پر تبصرہ کرنا چاہیے۔ 

پریم چند

Deep quotes

سوز و گداز میں جب پختگی آجاتی ہے تو غم، غم نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی سنجیدگی میں بدل جاتا ہے۔ 

فراق گورکھپوری

Deep quotes

ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار امیرانہ اور عیش پرورانہ تھا۔ 

پریم چند

در اصل شادی ایک لفظ نہیں پورا فقرہ ہے۔ 

شفیق الرحمان

Deep quotes

زندگی کے خارجی مسائل کا حل شاعری نہیں لیکن وہ داخلی مسائل کا حل ضرور ہے۔ 

فراق گورکھپوری

Deep quotes

لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو شہید صرف سچائی ہوتی ہے۔ 

مشتاق احمد یوسفی

Deep quotes

ادب انقلاب نہیں لاتا بلکہ انقلاب کے لیے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔ 

آل احمد سرور

Deep quotes

تاج محل اسی باورچی کے زمانے میں تیار ہوسکتا تھا، جو ایک چنے سے ساٹھ کھانے تیار کر سکتا تھا۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

غزل ہماری ساری شاعری نہیں ہے، مگر ہماری شاعری کا عطر ضرور ہے۔ 

آل احمد سرور

افسانے کا میں تصور ہی یوں کرتا ہوں جیسے وہ پھلواری ہے جو زمین سے اگتی ہے۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

غم کا بھی ایک طربیہ پہلو ہوتا ہے اور نشاط کا بھی ایک المیہ پہلو ہوتا ہے۔ 

فراق گورکھپوری

Deep quotes

تنہائی کا احساس اگر بیماری نہ بن جائے تو اسی طرح عارضی ہے جیسے موت کا خوف۔ 

سیداحتشام حسین

Deep quotes

قدیمی سماج میں افسانہ ہوتا تھا، افسانہ نگار نہیں ہوتے تھے۔ 

انتظار حسین

Deep quotes

ہر متروک لفظ ایک گمشدہ شہر ہے اور ہر متروک اسلوبِ بیان ایک چھوڑا ہوا علاقہ۔ 

انتظار حسین

فسادات کے متعلق جتنا بھی لکھا گیا ہے اس میں اگر کوئی چیز انسانی دستاویز کہلانے کی مستحق ہے تو منٹو کے افسانے ہیں۔ 

محمد حسن عسکری

Deep quotes

Good morning quotes in urdu

0
Good morning quotes in urdu
Good morning quotes in urdu

Good morning quotes in urdu

Explore the enchanting world of Urdu good morning quotes in this blog post, where each phrase becomes a brushstroke on the canvas of a new day. From the universal greeting “Assalamualaikum” to poetic expressions like “Subha Bakhair,” discover the elegance of starting your day with beautiful and uplifting messages. Whether you prefer simple and decent quotes, humorous touches, romantic sentiments, or motivational vibes, there’s an Urdu good morning quote to suit every preference. Dive into the Islamic touch, connecting faith with the tranquility of dawn. Let these quotes become your daily mantra, transforming each sunrise into a masterpiece of positivity and cultural richness. Subha Bakhair! (Good morning!)

نئی صبح اتنی سہانی ہو جائے دکھوں کی ساری باتیں آپکی پرانی ہو جائیں 

Goodmorning quotes in urdu
Goodmorning quotes in urdu

خو بصورت رات نے چادر سمیٹ لی ہے سورج پیاری سی کرنے بکھیر دی ہے۔

Goodmorning quotes in urdu
Goodmorning quotes in urdu

سورج نکتا ہے آپکے قدموں کی آہٹ سے پھول کی ہر کلی کھلتی ہے آ پکے جاگنے سے،

Goodmorning quotes in urdu
Goodmorning quotes in urdu

ہر دن کی شروعات ہوتی ہے آپکی مسکراہٹ سے۔

Goodmorning quotes in urdu

ہر صبح آپکو ستانا پیارا لگتا ہے سوۓ ہوۓ کو نیند سے جگانا اچھا لگتا ہے۔

Goodmorning quotes in urdu
Goodmorning quotes in urdu

چاند نے بند کی لائٹنگ سورج نے شروعات کی شاہنگ مرغوں نے دی ہے ایک وارننگ کہ اب ہو گئی ہے مارننگ۔

خوابوں کی وادیوں میں ہو شہر آپکا ستاروں کے آنگن میں ہو گھر آپکا دعا ہے

Goodmorning quotes in urdu

سب سے خوبصورت ہو ہر دن آپکا۔

Goodmorning quotes in urdu

صبح کا ہر پل زندگی دے آپکو دن کا ہر لمحہ خوشی دے آ پکو۔

Goodmorning quotes in urdu

اے خدا تیرے سے بس ایک دعا ہے کہ میری محبت کی ہر صبح اچھی ہو۔

Goodmorning quotes in urdu

ہماری نیت کی پیمائش اس وقت ہوتی ہے جب ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں جو ہمیں کچھ نہیں دے سکتا۔

Goodmorning quotes in urdu

 

اکثر ایسا ہو تا ہے کہ ہم اپنی سوچوں میں گم ہمت ہارنے کے قریب ہوتے ہیں کہ اچانک ایسے الفاظ پڑ ھنے کو ملتے ہیں کہ حوصلہ بحال ہو جاتا ہے

Goodmorning quotes in urdu

اور یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے خدا ہمیں امید کی کرن دیتا دیتا ہے۔

Goodmorning quotes in urdu

ہر موڑ پر خوشیاں تیری جھولی میں آئیں اتنی ہوں خوشیاں تم سے سمیٹی نہ جائیں دل سے دعا ہے

Good morning quotes in urdu

یہ دعا ہے  میری خدا سے غم تیرے مقدر میں تو کیا تصور میں بھی نہ آئیں۔

Good morning quotes in urdu

آنسو اور مسکراہٹ دوانمول خزانے ہیں

Good morning quotes in urdu

آنسو صرف اللہ کے سامنے بہائیں اور مسکراہٹیں اللہ کی مخلوق میں بانٹ دیں۔

  Good morning quotes in urdu

صبح کا سلام صرف رسم نہیں بلکہ یہ احساس فکر بھی ہے تا کہ رشتے سلامت رہیں۔

Good morning quotes in urdu
Good morning quotes in urdu

Good morning quotes in urdu

کبھی جو زندگی سے تھک جاؤ تو یاد رکھو کسی کو کنو کانو کان خبر نہ ہونے دینا بس

Good morning quotes in urdu

اور یاد میں باقی رہیں اللّه آپکو ہمیشہ خوش رکھے

Good morning quotes in urdu

جتنی خوبصورت یہ گلابی صبح ہے اس سے بھی زیادہ خوبصورت آپکا ہر پل ہو۔

Good morning quotes in urdu
Good morning quotes in urdu

Urdu ghazal love poetry in text

0

Urdu ghazal love poetry in text

Embark on a journey through the captivating world of Urdu ghazal love poetry in this insightful blog post. Explore the intricacies of ghazal, a classical poetic form known for its eloquent expressions of love, longing, and mysticism. The structure, defined by rhyming couplets, sets the stage for profound themes that delve into the complexities of human relationships. Dive into the rich tapestry of mystical imagery, where elements of nature and symbolism intertwine to enhance the beauty of each verse. Legendary poets such as Mirza Ghalib, Allama Iqbal, and Faiz Ahmed Faiz have left an indelible mark on this timeless art form. The evolution of ghazal is evident as contemporary poets infuse modern themes, ensuring its continued relevance. As you immerse yourself in the enchanting verses, feel the universal resonance that transcends generations, creating an emotional bridge to the human heart. This exploration reveals the enduring power of language to capture the profound essence of love in its various facets.

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں 

دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے 

کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے 

آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے 

نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے 

اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں 

اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے 

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں 

دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے 

وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں 

یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں 

اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے 

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں 

ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے 

جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا 

اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے 

لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ 

ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے

Urdu poetry
Urdu poetry

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی 

پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی 

یہ زندگی ہے یہاں اس طرح ہی ہوتا ہے 

سبھی نے بوجھ سے لادے ہیں کچھ اتارے بھی 

سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے 

ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی 

کسی کا اپنا محبت میں کچھ نہیں ہوتا 

کہ مشترک ہیں یہاں سود بھی خسارے بھی 

بگاڑ پر ہے جو تنقید سب بجا لیکن 

تمہارے حصے کے جو کام تھے سنوارے بھی 

بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے 

جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی 

پہ جیسے ریل میں دو اجنبی مسافر ہوں 

سفر میں ساتھ رہے یوں تو ہم تمہارے بھی 

یہی سہی تری مرضی سمجھ نہ پائے ہم 

خدا گواہ کہ مبہم تھے کچھ اشارے بھی 

یہی تو ایک حوالہ ہے میرے ہونے کا 

یہی گراتی ہے مجھ کو یہی اتارے بھی 

اسی زمین میں اک دن مجھے بھی سونا ہے 

اسی زمیں کی امانت ہیں میرے پیارے بھی 

وہ اب جو دیکھ کے پہچانتے نہیں امجدؔ 

ہے کل کی بات یہ لگتے تھے کچھ ہمارے بھی 

Urdu ghazald

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا 

جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا 

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا 

میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا 

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی 

پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا 

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے 

تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا 

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے 

تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا 

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے 

قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا 

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک 

تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا 

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی 

باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا 

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی 

اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا 

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا 

آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرا جوڑوں گا 

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے

یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے 

زندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلوم 

موت تو طے ہے کہ کس وقت کہاں آنی ہے 

کوئی کرتا ہی نہیں ذکر وفاداری کا 

ان دنوں عشق میں آسانی ہی آسانی ہے 

کب یہ سوچا تھا کبھی دوست کہ یوں بھی ہوگا 

تیری صورت تری آواز سے پہچانی ہے 

چین لینے ہی نہیں دیتی کسی پل مجھ کو 

روز اول سے مرے ساتھ جو حیرانی ہے 

یہ بھی ممکن ہے کہ آبادی ہو اس سے آگے 

یہ جو تا حد نظر پھیلتی ویرانی ہے 

کیوں ستارے ہیں کہیں اور کہیں آنسو ہیں 

آنکھ والوں نے یہی رمز نہیں جانی ہے 

تخت سے تختہ بہت دور نہیں ہوتا ہے 

بس یہی بات ہمیں آپ کو بتلانی ہے 

دوست کی بزم ہی وہ بزم ہے امجدؔ کہ جہاں 

عقل کو ساتھ میں رکھنا بڑی نادانی ہے 

جیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں 

ظلم ہوتا ہے کہیں اور کہیں دیکھتے ہیں 

تیر آیا تھا جدھر یہ مرے شہر کے لوگ 

کتنے سادا ہیں کہ مرہم بھی وہیں دیکھتے ہیں 

کیا ہوا وقت کا دعویٰ کہ ہر اک اگلے برس 

ہم اسے اور حسیں اور حسیں دیکھتے ہیں 

اس گلی میں ہمیں یوں ہی تو نہیں دل کی تلاش 

جس جگہ کھوئے کوئی چیز وہیں دیکھتے ہیں 

شاید اس بار ملے کوئی بشارت امجدؔ 

آئیے پھر سے مقدر کی جبیں دیکھتے ہیں

Sad poetry about love and life for dp and status in urdu text

0
Sad poetry about love and life for dp and status in urdu text
Sad poetry about love and life for dp and status in urdu text

Sad  poetry about love and life for dp and status in urdu text

گھٹن تڑپن اداسی اشک رسوائی اکیلا پن

بغیر ان کے ادھوری عشق کی ہر اک کہانی ہے    

مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکن

اداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا

سونے سونے سے دریچوں سے اداسی جھانکے

کیا عجب خوف ہے چہرے بھی کسی در میں نہیں

اس نئے سال کے سواگت کے لیے پہلے سے

ہم نے پوشاک اداسی کی سلا کے رکھ لی

Table of Contents

مرے دل کے اکیلے گھر میں راحتؔ

اداسی جانے کب سے رہ رہی ہے

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

یہ دل نواز اداسی بھری بھری پلکیں

ارے ان آنکھوں میں کیا ہے سنو دکھاؤ مجھے

اداسی کا سمندر دیکھ لینا

مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے

اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے

پھولوں کی تازگی میں اداسی ہے شام کی

سائے غموں کے اتنے تو گہرے کبھی نہ تھے

کیسی ہوتی ہیں اداسی کی جڑیں

آ دکھاؤں تجھے دل کے ریشے

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں

خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے

ہلکی سی خلش دل میں نگاہوں میں اداسی

شاید یوں ہی ہوتی ہے محبت کی شروعات

وہی بے وجہ اداسی وہی بے نام خلش

راہ و رسم دل ناکام سے جی ڈرتا ہے

اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی

مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا

ہم اداسی کے پرستار سہی

ہنستے چہروں کو دعا دیتے ہیں

آنکھ نم رخ پر اداسی درد بھی دل کے قریب

کیا محبت آ گئی ہے اپنی منزل کے قریب

30 sad quotes about life and love

0
Quotes about love and life in urdu

30 sad quotes about life and love

وہ صرف میں ہوں جو سو جنتیں سجا کر بھی

اداس اداس سا تنہا دکھائی دینے لگے

عجیب بات ہے میں جب بھی کچھ اداس ہوا

دیا سہارا حریفوں کی بد دعاؤں نے

اسے بتانا پرندے اسے بلاتے ہیں

اسے بتانا کہ شاعر اداس ہے اس کا

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا

اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی

مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر

یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے

اداسی کر رہی ہے رقص ہجرت

ہمیشہ کے لیے وہ جا رہا ہے

میرے کمرے میں اداسی ہے قیامت کی مگر

ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے

دکھ اداسی ملال غم کے سوا

اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا

دکھ اداسی ملال غم کے سوا

اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا

شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے

ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی

عشق اداسی کے پیغام تو لاتا رہتا ہے دن رات

لیکن ہم کو خوش رہنے کی عادت بہت زیادہ ہے

مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر

میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا

یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ

کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

ہم تجھے یاد کر کے پچھتائے

مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان

جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں

بہت دنوں سے ہے دل اپنا خالی خالی سا

خوشی نہیں تو اداسی سے بھر گئے ہوتے

میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی

تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا

خود بنا لیتا ہوں میں اپنی اداسی کا سبب

ڈھونڈ ہی لیتی ہے شاہیںؔ مجھ کو ویرانی مری

بہت دنوں سے مرے بام و در کا حصہ ہے

مری طرح یہ اداسی بھی گھر کا حصہ ہے

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

کسی کی یاد منانے میں عید گزرے گی

سو شہر دل میں بہت دور تک اداسی ہے

ایک بے نام اداسی سے بھرا بیٹھا ہوں

آج دل کھول کے رونے کی ضرورت ہے مجھے

پی کے بیراگ کی اداسی سوں

دل پہ میرے سدا اداسی ہے

کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

پلٹ کے آنے لگی ہے فضا اداسی کی

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

میں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا 

Ahmed faraz

0
احمد فراز

 

احمد فراز

تعارف

: 1931 میں کوہاٹ، برطانوی ہندوستان میں سید حسین شاہ کے نام سے پیدا ہوئے، احمد فراز 20ویں صدی کے سب سے مشہور اردو شاعروں میں سے ایک کے طور پر ابھرے۔ زندگی اور ادب کے ذریعے اس کا سفر جذبہ، لچک، اور الفاظ کی طاقت سے گہری محبت کی کہانی بنتا ہے۔ اس کھوج میں، ہم احمد فراز کی زندگی، شاعرانہ صلاحیتوں اور پائیدار میراث کا جائزہ لیتے ہیں

۔ ابتدائی زندگی اور اثرات: احمد فراز کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جس نے ان کے ادبی رجحانات کو پروان چڑھایا۔ ایک ممتاز عالم اور شاعر سید محمد شاہ کے بیٹے فراز کی لفظوں کی دنیا میں ابتدائی نمائش نے ان کی مستقبل کی ادبی کوششوں کی بنیاد رکھی۔ پشاور کا بھرپور ثقافتی ماحول، جہاں انہوں نے اپنے ابتدائی سال گزارے، انہیں اثرات کا ایک ایسا موزیک فراہم کیا جو بعد میں ان کی شاعری میں ظاہر ہوگا۔ شاعرانہ سفر اور دستخطی انداز: فراز کا شاعرانہ سفر 1954 میں ان کے پہلے مجموعے “تنہا تنھا” کی اشاعت سے شروع ہوا۔ ان کی نظمیں، رومانویت، سماجی تبصرے اور انسانی فطرت کے گہرے مشاہدے کے نازک امتزاج سے مزین ہیں، جو قارئین کے دل کی گہرائیوں سے گونجتی ہیں۔ فراز کی پیچیدہ جذبات کو سادہ لیکن اشتعال انگیز زبان میں سمیٹنے کی صلاحیت ان کے شاعرانہ اسلوب کی پہچان بن گئی۔ ‘غزل’ کی صنف فراز کا کینوس بن گئی، اور اس نے محبت، چاہت اور سماجی تنقید کی پیچیدہ تصویریں پینٹ کیں۔ ان کی شاعری میں اکثر انسانی حالت کے بارے میں گہری حساسیت کی عکاسی ہوتی ہے، اور رشتوں کی پیچیدگیوں کی ان کی کھوج نے سامعین کے ایک وسیع حلقے کو متاثر کیا۔ سماجی تبصرہ اور سرگرمی: شعری رومانس کے دائرے سے ہٹ کر احمد فراز کی شاعری میں سماجی ذمہ داری کا گہرا احساس نمایاں تھا۔ ان کی آیات اکثر ایک آئینہ کے طور پر کام کرتی تھیں جو اپنے وقت کے سماجی چیلنجوں اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی تھیں۔ فراز محض شاعر نہیں تھے بلکہ ایک باضمیر مبصر تھے جنہوں نے اپنے الفاظ کو ناانصافی پر سوال اٹھانے اور تبدیلی کی وکالت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ سیاسی بدامنی کے دور میں، خاص طور پر پاکستان میں فوجی حکومتوں کے دوران، فراز کی شاعری نے زیادہ واضح سیاسی لہجہ اختیار کیا۔ آمریت پر ان کی بے خوف تنقید اور جمہوری اقدار کی وکالت نے انہیں اختلاف رائے کی آواز کے طور پر جگہ دی۔

جلاوطنی اور واپسی:

 

فراز کی اپنے اصولوں سے وابستگی جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جلاوطنی کا باعث بنی۔ شاعر نے جابرانہ سیاسی ماحول سے خود کو دور کرتے ہوئے یورپ میں خود ساختہ جلاوطنی کا انتخاب کیا۔ تاہم، وہ 1980 کی دہائی کے آخر میں پاکستان واپس آئے، جو نہ صرف ذاتی وطن واپسی بلکہ اس ادبی اور سیاسی منظر نامے کی طرف بھی واپسی کی علامت ہے جس پر اثر انداز ہونے کی وہ خواہش رکھتے تھے۔

میراث اور پہچان:

 

احمد فراز کی میراث ان کی زندگی سے بہت آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان کی شاعرانہ شراکت نے انہیں اعزازات سے نوازا، جس میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز میں سے ایک ستارہ امتیاز بھی شامل ہے۔ فراز کی شاعری کا دنیا بھر میں مداحوں کی طرف سے مطالعہ، پڑھا، اور پسندیدگی جاری ہے۔ اس کا اثر ادبی حلقوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں پھیلتا ہے، جہاں اس کے الفاظ متعلقہ اور گونجتے رہتے ہیں۔

اردو ادب کی شاعرانہ سمفنی میں احمد فراز کے اشعار بے وقت دھنوں کی طرح گونجتے ہیں۔ ان کی زندگی کی داستان، جو ان کی شاعری کے تانے بانے میں پیچیدہ طریقے سے بنی ہوئی ہے، خواہش مند شاعروں کے لیے ایک تحریک اور ان لوگوں کے لیے تسلی کا ذریعہ ہے جو الفاظ کی خوبصورتی میں سکون پاتے ہیں۔ جب ہم فراز کی ادبی وراثت کے منظر نامے سے گزرتے ہیں تو ہمارا سامنا نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک بصیرت سے ہوتا ہے جس کے الفاظ وقت کی حدوں سے ماورا ہوتے ہیں، جو ہمیں انسانی جذبات کی گہرائیوں اور سماجی حرکیات کو ان کی شاعرانہ ذہانت کی عینک سے تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں